تاریخ مدینہ منورہ
بئر رومہ :
بئر عثمان رضی اللہ عنہ مسجد نبوی شریف سے تقریبا 4، 5 کلو میٹر اور مسجد قبلتین سے تقریبا 1 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ازہری محلہ میں وادی عقیق کے کنارے واقع ہے ۔ اور اب محمکہ زراعت کے تابع ہے ۔
جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میٹھے پانی کا یہ کنواں ایک یہودی کی ملیکت تھا جو لوگوں کو پینے کا پانی قیمتا مہنگا دیتا تھا ۔ نبی خاتم ﷺ نے فرمایا: جو شحص مسلمانوں کے لیئے بئررومہ خریدے گا اسے جنت میں اس سے بہتر انعام ملے گا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آدھا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیئے وقف کردیا یہودی نے کہا ایک دن آپ کا اور ایک دن میرا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ والے دن مسلمان اپنی دودن ضرورت کے کا پانی بھر لیتے اور یہودی سے نا خریدتے ۔ وہ کہنے لگا آپ نے تو میرا کاروبار خراب کر دیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باقی نصف حصہ بھی خرید لیا اور امیر، غریب و مسافر سب کے لیئے وقف کردیا، اس سے زیادہ تفصیل کے لیئے جامع ترمزی حدیث نمبر 3699 ملاخط فرمائیں
بئر حاء:-
مسجد نبوی شریف کی شمالی جانب حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا باغ ہوا کرتھا اس میں کنواں تھا جو ماضیِ قریب تک موجود رہا1994ء میں دوسری سعودی توسیع کے دوران مسجد میں شامل ہوگیا ۔ اب اس کی جگہ باب ملک فہد 21 نمبر گیٹ سے چند میٹر کے فاصلے پر بائیں طرف ہے ،
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انصارِ مدینہ میں سب سے زیادہ باغ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے تھے مسجد نبوی کے سامنے والا باغ انہیں بہت پسند تھا رسول اللہ ﷺ یہاں تشریف لاتے اور اس کا پانی نوش فرماتے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی " تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نا کرو (آل عمران92) تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس فرمان الٰہی کے حوالے سے عرض کیا: آقا ! بئر حاء والا باغ جو مجھے بہت پسند ہے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ اسے جہاں مناسب سمجھیں استعمال فرمائیں ۔ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا : ٹھرو یہ تو بڑا نفع بخش سودا ہے یہ تو بڑا نفع بخش سودا ہے اب میری رائے ہے کہ اسے تم اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آقا ایسا ہی کروں گا (صحیح البخاری 4554)
بئر نضاعہ :-
سقیفہ بن ساعدہ کی شمالی جانب بنو ساعدہ کا ایک مشہور کنواں تھا نبی اکرم ﷺ نے اس کا پانی استعمال فرمایا۔ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقہ کی تنظیم و تلسیق کے دوران اس کا اثر بھی زائل ہوگیا ۔
بئر غرس:-
مسجد قباء کی شمالی جانب تقریبا ایک کلو میٹر کے فاصلے پر مدارس شاوی کے قریب ہے جسکے گرد دیوار بنا کر اوپر چھت ڈال دی گئی ہے ۔ میرے آقا ﷺ اسکا پانی نوش فرماتے اور آپ ﷺ کی اپنی وفات کے بعد اسکے پانی سے غسل دینے کی وصیت فرمائی : ایک شاعر اس موقے پر کہتا ہے
مجھے بئر غرس کی چاہ ہے میری تشنگی ہی گواہ ہے
یہ وہ تشنگی نہیں تشنگی جو بجھے شرابِ در سے
بئر سقیاء:-
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ یہ کنواں سقیا مقام واقع تھا جو چودھویں صدی ہجری کے دوران سڑک کی توسیع کے پیش نظر دفن کردیا گیا ، اس کا تقریبی محلِ وقوع مسجد سقیا کی جنوبی طرف ریلوے اسٹیشن کی چار دیواری سے باہر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ بدر جاتے ہوئے اس کے پانی سے وضو کیا اور اس کا پانی نوش فرمایا کرتے تھے ۔
بئر عروہ بن زبیر ؛-
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کنواں کھدوایا تھا ۔ مکہ مکرمہ کیلیئے قدیم سڑک شارع عمر رضی اللہ عنہ پر وادی عقیق کے پل کے قریب بائیں جانب واقع ہے مسجد نبوی ﷺ سے تقریبا 4، 5 کلو میٹر دور ہے اور ابھی تک محفوظ ہے قریب ہی قصر عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہے تاریخی کتابوں میں یہاں مسجد عروہ کا ذکر بھی ملتا ہے بئروہ کی بابت مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس کا پانی بہت ہلکا اور میٹھا تھا ۔ عربی شاعری میں بھی اس کا تزکرہ ملتا ہے ۔
بئر فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہما:-
ولید بن عبد المالک کے دور میں جب اہل بیت اطھار کو حجرئہ سیدۃ النسا سیدہ فاطمۃ الزہراء سے ریاستی قوت کے بل بوتے پر نکال باہر کیا گیا تو امام عالی مقام کی شہزادی سیدہ فاطمۃ الزہرا بنت الحسین ؓ ”حرہ غربیہ“ کی سطح مرتفع میں آباد ہوگئی تھیں۔ اپنے نئے گھر میں انہوں نے کنواں کھودنے کا حکم دیا ۔
یہ سطح چونکہ لاوے کی سخت چٹانوں سے بنی تھی اس لیے کنویں کی کھدائی کے لیے کافی مشکل پیش آئی۔ جب یہ مشکل سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے وضو کر کے اس جگہ پر دو رکعت نفل ادا کیئے اور دعا فرمائی ۔
اس کے بعد جب کھدائی کا کام شروع کیا گیا تو سب مشکلیں آسان ہوگئیں، اور کام بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوگیا اور زیر زمیں پانی نکل آیا۔
اھل بیت الطاہرہ کے مقتدین نے اسے بئر زم زم کہنا شروع کر دیا۔ مراغی کی روایت کے مطابق ان کے دور میں حجاج کرام اس کا پانی نسبت اھل بیت الطاہرہ کے سبب چار دانگ عالم میں لے جایا کرتے تھے
تاریخ المدینہ الیاس عبدالغنی
ان کے علاوہ بھی مدینہ منورہ میں مشہورو معروف رہے ہیں ،
جیسے بئر بصاء ، بئر الختم ،
بئر عثمان رضی اللہ عنہ مسجد نبوی شریف سے تقریبا 4، 5 کلو میٹر اور مسجد قبلتین سے تقریبا 1 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ازہری محلہ میں وادی عقیق کے کنارے واقع ہے ۔ اور اب محمکہ زراعت کے تابع ہے ۔
جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میٹھے پانی کا یہ کنواں ایک یہودی کی ملیکت تھا جو لوگوں کو پینے کا پانی قیمتا مہنگا دیتا تھا ۔ نبی خاتم ﷺ نے فرمایا: جو شحص مسلمانوں کے لیئے بئررومہ خریدے گا اسے جنت میں اس سے بہتر انعام ملے گا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آدھا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیئے وقف کردیا یہودی نے کہا ایک دن آپ کا اور ایک دن میرا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ والے دن مسلمان اپنی دودن ضرورت کے کا پانی بھر لیتے اور یہودی سے نا خریدتے ۔ وہ کہنے لگا آپ نے تو میرا کاروبار خراب کر دیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باقی نصف حصہ بھی خرید لیا اور امیر، غریب و مسافر سب کے لیئے وقف کردیا، اس سے زیادہ تفصیل کے لیئے جامع ترمزی حدیث نمبر 3699 ملاخط فرمائیں
بئر حاء:-
مسجد نبوی شریف کی شمالی جانب حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا باغ ہوا کرتھا اس میں کنواں تھا جو ماضیِ قریب تک موجود رہا1994ء میں دوسری سعودی توسیع کے دوران مسجد میں شامل ہوگیا ۔ اب اس کی جگہ باب ملک فہد 21 نمبر گیٹ سے چند میٹر کے فاصلے پر بائیں طرف ہے ،
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انصارِ مدینہ میں سب سے زیادہ باغ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے تھے مسجد نبوی کے سامنے والا باغ انہیں بہت پسند تھا رسول اللہ ﷺ یہاں تشریف لاتے اور اس کا پانی نوش فرماتے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی " تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نا کرو (آل عمران92) تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس فرمان الٰہی کے حوالے سے عرض کیا: آقا ! بئر حاء والا باغ جو مجھے بہت پسند ہے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ اسے جہاں مناسب سمجھیں استعمال فرمائیں ۔ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا : ٹھرو یہ تو بڑا نفع بخش سودا ہے یہ تو بڑا نفع بخش سودا ہے اب میری رائے ہے کہ اسے تم اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آقا ایسا ہی کروں گا (صحیح البخاری 4554)
بئر نضاعہ :-
سقیفہ بن ساعدہ کی شمالی جانب بنو ساعدہ کا ایک مشہور کنواں تھا نبی اکرم ﷺ نے اس کا پانی استعمال فرمایا۔ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقہ کی تنظیم و تلسیق کے دوران اس کا اثر بھی زائل ہوگیا ۔
بئر غرس:-
مسجد قباء کی شمالی جانب تقریبا ایک کلو میٹر کے فاصلے پر مدارس شاوی کے قریب ہے جسکے گرد دیوار بنا کر اوپر چھت ڈال دی گئی ہے ۔ میرے آقا ﷺ اسکا پانی نوش فرماتے اور آپ ﷺ کی اپنی وفات کے بعد اسکے پانی سے غسل دینے کی وصیت فرمائی : ایک شاعر اس موقے پر کہتا ہے
مجھے بئر غرس کی چاہ ہے میری تشنگی ہی گواہ ہے
یہ وہ تشنگی نہیں تشنگی جو بجھے شرابِ در سے
بئر سقیاء:-
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ یہ کنواں سقیا مقام واقع تھا جو چودھویں صدی ہجری کے دوران سڑک کی توسیع کے پیش نظر دفن کردیا گیا ، اس کا تقریبی محلِ وقوع مسجد سقیا کی جنوبی طرف ریلوے اسٹیشن کی چار دیواری سے باہر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ بدر جاتے ہوئے اس کے پانی سے وضو کیا اور اس کا پانی نوش فرمایا کرتے تھے ۔
بئر عروہ بن زبیر ؛-
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کنواں کھدوایا تھا ۔ مکہ مکرمہ کیلیئے قدیم سڑک شارع عمر رضی اللہ عنہ پر وادی عقیق کے پل کے قریب بائیں جانب واقع ہے مسجد نبوی ﷺ سے تقریبا 4، 5 کلو میٹر دور ہے اور ابھی تک محفوظ ہے قریب ہی قصر عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہے تاریخی کتابوں میں یہاں مسجد عروہ کا ذکر بھی ملتا ہے بئروہ کی بابت مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس کا پانی بہت ہلکا اور میٹھا تھا ۔ عربی شاعری میں بھی اس کا تزکرہ ملتا ہے ۔
بئر فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہما:-
ولید بن عبد المالک کے دور میں جب اہل بیت اطھار کو حجرئہ سیدۃ النسا سیدہ فاطمۃ الزہراء سے ریاستی قوت کے بل بوتے پر نکال باہر کیا گیا تو امام عالی مقام کی شہزادی سیدہ فاطمۃ الزہرا بنت الحسین ؓ ”حرہ غربیہ“ کی سطح مرتفع میں آباد ہوگئی تھیں۔ اپنے نئے گھر میں انہوں نے کنواں کھودنے کا حکم دیا ۔
یہ سطح چونکہ لاوے کی سخت چٹانوں سے بنی تھی اس لیے کنویں کی کھدائی کے لیے کافی مشکل پیش آئی۔ جب یہ مشکل سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے وضو کر کے اس جگہ پر دو رکعت نفل ادا کیئے اور دعا فرمائی ۔
اس کے بعد جب کھدائی کا کام شروع کیا گیا تو سب مشکلیں آسان ہوگئیں، اور کام بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوگیا اور زیر زمیں پانی نکل آیا۔
اھل بیت الطاہرہ کے مقتدین نے اسے بئر زم زم کہنا شروع کر دیا۔ مراغی کی روایت کے مطابق ان کے دور میں حجاج کرام اس کا پانی نسبت اھل بیت الطاہرہ کے سبب چار دانگ عالم میں لے جایا کرتے تھے
تاریخ المدینہ الیاس عبدالغنی
ان کے علاوہ بھی مدینہ منورہ میں مشہورو معروف رہے ہیں ،
جیسے بئر بصاء ، بئر الختم ،




0 Comments